Tere Liye by Manal Ali Complete Novel Pdf Download


Tere Liye by Manal Ali Novel.

Cousin Marriage based and Friendship based best urdu novel Tere Liye by Manal Ali Complete pdf Novel free download. Famous urdu novel Tere Liye written by Manal Ali Complete pdf Format Posted on our website.

حمدان۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم نے اپنے کمرے کا کیا حال کیا ہوا ہے کتنے بڑے ہو گئے ہو تم مگر حرکتیں تمہاری بالکل بچوں جیسی ہیں۔

شکر آپ آگئی میں کب سے آپ کا انتظار کر رہا تھا۔اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے حمدان نے حرم کو دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ اس وقت سفید ٹی شرٹ کے نیچے نیلی جینز پہنا ہوا تھا۔
اسکا اسٹڈی ٹیبل الگ الگ کتابوں سے بھرا ہوا تھا اور وہ خود کوئی پریکٹیکل جرنل بنانے میں مصروف تھا۔

تمہارا یہ گندا سا کمرہ صاف کرتے کرتے میں تھک گئی ہوں۔ائندہ میں نہیں کروں گی۔

آپ ہر بار یہی کہتی ہیں "حرم جی" لیکن پھر کر دیتی ہیں وہ مسکرا کر حرم کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔

حرم نے گردن موڑ کر اسے غصے سے دیکھا۔

لیکن پھر بھی تمہارے اندر شرم نہیں جاگتی۔ وہ اسے مستقل شرم دلانے کی کوشش کرتی رہی۔ تھوڑی دیر بعد وہ اس کا کمرہ صاف کر کے اس کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
یقینا تمہیں مزید کوئی اور کام بھی ہوگا حرم نے اس کے پریکٹیکل جرنل کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا۔

حمدان نے مسکرا کر ایک بار پریکٹیکل جرنل کو دیکھا اور ایک نظر حرم کو۔۔ پھر کہنے لگا۔ اپ تو جانتی ہیں مجھے یہ بنانے نہیں آتے۔

آتا تو تم کو سب کچھ ہے بس تم نے صرف بیوقوف بنانا ہے مجھے وہ تپ کر بولی۔

ایسا نہیں ہے ایک میڈیکل پڑھنے والی لڑکی کو میں کیسے بے وقوف بنا سکتا ہوں۔

میں تمہیں بتا رہی ہوں اگے جا کے میں تمہاری کوئی اور ڈائیگرام نہیں بناؤں گی تم خود سے بناؤ۔

جب تک میں میڈیکل کالج میں نہیں جاتا تب تک اپ ہی بنا دیا کریں وہ بڑے مزے سے بولا تو حرم نے ایک تھپڑ اس کے کندھے پر لگایا۔

ایک شرط پہ بناؤں گی ڈائگرام وہ بھی حرم تھی اپنے نام کی ایک۔

میں اپ کو مزید بک اسٹور سے کتابیں نہیں لا کر دے سکتا بڑا ہی مشکل کام ہے یہ۔۔ حمدان نے فورا اندازہ لگایا کہ اس کی شرط کیا ہو سکتی ہے۔

ارے نہیں۔۔ کتابیں تو میں نے تم سے پہلے بھی منگوائی تھی ابھی کچھ اور ہے۔

وہ کیا۔۔ حمدان نے ذرا چھوٹی انکھیں کر کے اسے دیکھا۔

تم مجھے ایک پیزا کھلاؤ گے اور ایک زنگر برگر بھی جب تک میں تمہارا کام کر رہی ہوں تب تک تم فورا سے اٹھو اور جا کے ارڈر کرو مجھے بھوک لگ رہی ہے۔

جو حکم ابھی کرتا ہوں۔ ویسے حرم جی اپ کتنا بھی جنگ فوڈ کھا لیں موٹی کیوں نہیں ہوتی۔

ارے یہ تو اللہ کی طرف سے انعام ہے میرے لیے میں بڑی خوش ہوں اس چیز سے۔۔ لیکن میں خوش نہیں ہوں کیونکہ مجھے جنگ فوڈ کھانے کے بعد ڈبل جم کرنا پڑتا ہے۔

ہاں میں جانتی ہوں مگر میں کیا کروں اگر تم میری طرح لکی نہیں ہو تو وہ اسے دیکھتے ہوئے ہنس پڑی۔

حمدان آرڈر کر کے اب اس کے پاس بیٹھ گیا تھا۔ وہ اپنے کام میں مصروف تھی ۔چلو ایک تو بن گی اب دوسری بناتی ہوں۔ کہتے کے ساتھ ہی حرم نے اپنے سارے بالوں کو سمیٹ کر جوڑا بننا شروع کیا۔

حمدان اسے دیکھنے لگا۔ وہ اس کی ایک ایک حر کت کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔

اس کے ہاتھوں کی حرکت اسکے لمبے بال جنہیں وہ لپیٹ رہی تھی اس کے کان میں موجود سفید موتی والے ایئر رنگز جب وہ بال ان ایرنگز کے اوپر لگتے تھے تو وہ حرکت کرتے ہوئے بہت خوبصورت لگتے تھے۔

حمدان کے لئے جیسے وہ دنیا کا بہت خوبصورت نظارہ ہو۔وہ اسے بس دیکھتا ہی رہا۔ وہ اسے بس دیکھ ہی تو سکتا تھا۔. اور وہ بس اپنے بال سمیٹتی رہی۔


&

Post a Comment

0 Comments